Home Blog

جھونپڑیوں کو آگ لگے تین دن گزر گئے ۔متاثرین کی مدد کے منتظر

کراچی ملیر شاہ لطیف ٹاؤن خانہ بدوشوں کی جھونپڑیوں کو آگ لگے تین دن گزر گئے ۔متاثرین کی مدد اور ان کی داد رسی کے لیے تاحال نہ تو کوئی حکومتی رہنما اور نہ ہی ضلع ملیر کی انتظامیہ پہنچی ۔متاثرین کھلے آسمان تلے بے بسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ۔نا کھانے کے لئے کھانا نا پینے کے لئے پانی نہ پہننے کے لئے کپڑے ۔

عمران نیازی عوام اور اداروں کے درمیان خلیج پیداکرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں،وفاقی وزیر احسن اقبال کی میڈیا سے گفتگو

لاہور۔ :وفاقی وزیربرائے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت درپیش چیلنجزسے نمٹنے کے لیے تمام وسائل بروئے کا ر لا رہی ہے، جلد چیلنجز پر قابو پا لیں گے، عمران نیازی اس وقت ملک دشمن لابی کی سیاست کر رہے ہیں،وہ قومی ادارے اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنا چاہتے ہیں مگر ان کی یہ کوشش ناکام ہو گی ،عمران نیازی ہمارے نوجوانوں کو ذہنی غلام بنانا چاہتے ہیں۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار ہائر ایجوکیشن سیرت سنٹر برائے جینڈر سٹڈیز ورائٹس فاروویمن کی افتتاحی تقریب کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

Imran Niazi is trying unsuccessfully to create a gap between the people and the institutions

وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ عمران خان نیازی اپنے ہی ملک کے خلاف ہائی برڈ وار کا ٹول استعمال کرکے عوام میں انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ قومی ادارے اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کی جا سکے مگر ان کی یہ مذموم کوشش ہرگز کامیاب نہیں ہو گی۔انہوں نے کہا کہ عمران نیازی ہمارے نوجوان کو ذہنی غلام بنا رہا ہے ،انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جس ملک کے پاس ایٹمی طاقت ہے وہ غلام نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہاکہ ملک میں جمہوری طریقے سے حکومت تبدیل ہوئی ہے جس کا عمران نیازی کو افسوس ہے، لانگ مارچ کی آڑ میں کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ سابق حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ ملک دشمن معاہدہ کر گئی اورعوام پر جو بوجھ چار سالوں میں ڈالا گیا اس کو کم کرنے میں وقت لگے گالیکن حکومت عوام کو جلدریلیف دینے میں کامیاب ہو گی ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت جو بے یقینی کا ماحول ہے یہ گزشتہ چار سال کا تسلسل ہے ۔

احسن اقبال نے کہا کہ عمران نیازی اور اس کے وزیروں کو گیس، بجلی اور پٹرول بحران کا جواب دینا پڑے گا، سابق حکومت نے گوادر بندر گاہ کو تباہ کر دیا،2020تک نو صنعتی زون تیار کرنا تھے لیکن افسوس کہ اب تک ایک بھی صنعتی زون مکمل نہیں ہو سکا،حکومت درپیش چیلنجزسے نمٹنے کے لیے تمام وسائل بروئے کا ر لا رہی ہے اور جلد چیلنجز پر قابو پا لیں گے۔

اس موقع پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹرشائستہ سہل نے کہا کہ سیرت سنٹر کے قیام سے پیغمبر اسلام حضرت محمدکی روشن زندگی کے تمام پہلوئوں بارے میں نہ صرف ریسرچ کو فروغ حاصل ہو گا بلکہ امت مسلمہ کو اسلام فوبیا جیسے درپیش مسائل سے نمٹنے میں بھی مددملے گی۔ اس موقع پر مختلف یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز،اساتذہ اور طلبا بھی موجود تھے۔

کائنات ویلفیئر کے چیئرمین نذیر بھٹی پر قاتلانہ حملہ

کائنات پبلک رائیٹس اینڈ ویلفیئر ایسوسی ایشن کے چیئرمین نذیر احمد بھٹی نے ایچ ٓآر نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک سماجی ورکر ہوں عرصہ دوسال سے کائنات پبلک رائیٹس ویلفیئر ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے سماجی خدمت سرانجام دے رہا ہوں، کرونا وبا کے دوران سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ عام عوام میں سینیٹائیز اور مفت ماسک فراہم کئے، ایجوکیشن اور ہیلتھ سے متعلق تمام مساکین و غربا کی اپنی حیثیت کے مطابق اپنی مدد آپ کے تحت خدمت سرانجام دیتا رہا ہوں۔ جو کہ میڈیا رپورٹس اور رکارڈ پر موجود ہے۔

Assassination of Kainat Welfare Chairman Nazir Bhatti


ایس ٹی 5 بلاک ۱۱ میں خانہ بدوش ہندو باگڑی قبیلہ کئی سالوں سے رہائش پذیر تھا، میں ان کی بچو کی فری تعلیم کیلئے کے پی آر کی طرف سے اسکول شلٹر قائم کرکے دیا تاکہ ان غریب بچوں کو مفت تعلیم مل سکے۔ بنیادی حقوق غصب کرنے والوں کو یہ بات پسند نہ آئی تو انہوں نے کرپٹ کے ڈی اے افسران اور مقامی غنڈو کی مدد سے ان کے گھر اسکول اور مندر توڑ کر بچوں اور عورتوں پر سخت تشدد کرکے زمیں خالی کرکے زمیں کو بلڈر کے حوالے کیا گیا۔ ان کے اس عمل کے خلاف میں ے ایک آئینی درخواست سندھ ہائی کورٹ میں داخل کر رکھی ہے، معزز عدالت سپریم کورٹ کے واضح آرڈر موجود ہیں کہ فلاحی پلاٹوں کو فلاحی کاموں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
میں نے فلاحی پلاٹس کے حوالے سے جب لینڈ مافیا کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے کرنمنلز کے خلاف سندھ ہائی کور ٹ میں ٓئینی درخواست جمع کروائی، جس وجہ سے دہشت گرد میری جان و مال کے دشمن بن چکے ہیں کچھ دن پہلے میری گاڑی پر فائرنگ کرکے مجھے مارنے کی کوشش کی گئی، اللہ کے کرم سے میں معمولی زخمی ہوا میں دہشت گردوں کے وار سے محفوظ رہا، مجھ پر قاتلانہ حملے کی میڈیا رپورٹس درخواست کے ساتھ منسلک ہیں۔

۔
نذیر بھٹی نے کہا کہ میں ہوم منسٹر اور سیکریٹری ہوم دپارٹمنٹ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ سیکیورٹی ون اور ٹو کو احکامات دے کر مجھے ایک پولیس کانسٹیبل فراہم کیا جائے جب تک پولیس انویسٹی گیشن مکمل کرے اور اعلیٰ عدالت اپنا کوئی فیصلہ صادر فرمائے تب تک میرے تحفظ کیلئے ایک پولیس کانسٹیبل فراہم کیا جائے، مجھے دہشت گردوں سے جان کو خطرہ ہے، انسانیت کے دشمن مجھے اپنے مقصد سے ہٹانے کیلئے بزدلانہ حرکتیں کرکے مجھے ڈرانے کی کوشش کر رہے، دہشت گردوں کی بزدلانہ حرکتیں مجھے اپنے مقصد سے ہٹا نہیں سکتی، میں اپنی آخری سانس تک انسانیت کی خدمت کرتا رہوں گا۔

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا “گلوبل فوڈ سکیورٹی” کے موضوع پر وزارتی اجلاس سے خطاب

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ خوراک کے بڑھتے ہوئے ایک ایسے عالمی بحران پر قابو پانے کے لیے مشترکہ کوششوں کے ساتھ مل کر کام کرے جس سے دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کی زندگیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں “گلوبل فوڈ سکیورٹی” کے موضوع پر وزارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ خوراک کا بحران سرحدوں کا پابند نہیں اور کوئی بھی ملک تنہا اس پر قابو نہیں پا سکتا۔

Foreign Minister Bilawal Bhutto Zardari addresses a ministerial meeting on "Global Food Security"

لاکھوں لوگوں کو بھوک سے نکالنے کا ہمارا واحد موقع مل کر، فوری اور یکجہتی کے ساتھ کام کرنا ہے۔ بھوک کا خاتمہ ہماری دسترس میں ہے۔ اگر ہم مل کر کام کریں تو ہماری دنیا میں ہر ایک کے لیے کافی خوراک ہے۔ بلاول نے مزید خبردار کیا کہ اگر آج اس مسئلے کو حل نہیں کرتے تو آنے والے مہینوں میں عالمی خوراک کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ عالمی سطح پر بھوک کی سطح ایک نئی بلندی پر ہے۔ صرف دو سالوں میں شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار لوگوں کی تعداد دوگنی ہو گئی ہے، جو کہ 135 ملین سے آج 276 ملین ہو گئی ہے۔ نصف ملین سے زیادہ لوگ قحط کے حالات میں زندگی گزار رہے ہیں 2016 کے بعد سے 500 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، یہ خوفناک اعداد و شمار ہیں جو تنازعات کی وجہ بن سکتے ہیں۔

وزیر خارجہ نے حکومتوں، بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور دیگر کے لیے قلیل مدتی بحران کے حل اور طویل المدتی تباہی کو روکنے کے لیے پانچ فوری اقدامات تجویز کیے ہیں۔ سب سے پہلے، انہوں نے کہا کہ خوراک اور کھاد کی سپلائی بڑھا کر فوری طور پر مارکیٹوں پر دباؤ کم کرنا چاہیے۔ برآمدات پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے اور زیادہ سے زیادہ ضرورت مندوں کے لیے سرپلسز مہیا کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے باوجود یوکرین کی خوراک کی پیداوار کے ساتھ ساتھ روس اور بیلاروس کی طرف سے تیار کردہ خوراک اور کھاد کو عالمی منڈیوں میں شامل کیے بغیر خوراک کے بحران کا کوئی موثر حل نہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ روس کو یوکرین کی بندرگاہوں میں ذخیرہ شدہ اناج کی محفوظ برآمد کی اجازت دینی چاہیے۔ اسی طرح متبادل نقل و حمل کے راستوں کو تلاش کیا جا سکتا ہے جبکہ روسی خوراک اور کھادوں کی عالمی منڈیوں تک بلاواسطہ رکاوٹوں کے بغیر غیر محدود رسائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس معاملے پر روسی فیڈریشن، یوکرین، ترکی، امریکہ، یورپی یونین اور کئی دیگر اہم ممالک کے ساتھ رابطہ کر رہا ہوں۔ میں پر امید ہوں، لیکن ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پیچیدہ سکیورٹی، اقتصادی اور مالیاتی اثرات کے لیے پیکج ڈیل تک پہنچنے کے لیے ہر طرف سے خیر سگالی کی ضرورت ہے۔ دوسرا، انہوں نے کہا کہ سماجی تحفظ کے نظام کو ہر ضرورت مند کا احاطہ کرنے کی ضرورت ہے، جس میں خوراک، نقد رقم اور پانی، صفائی ستھرائی، غذائیت، اور ذریعہ معاش کے صحیح امتزاج شامل ہیں۔ تیسرا یہ کہ فنانس ضروری ہے، ترقی پذیر ممالک کو لیکویڈیٹی تک رسائی ہونی چاہیے تاکہ وہ ہر ضرورت مند کو سماجی تحفظ فراہم کر سکیں۔

بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو عالمی قرضوں کے بحران کو روکنے کے لیے فراخدلی سے سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ مالیاتی بحران کے حل کے بغیر خوراک کے بحران کا کوئی حل نہیں ہے۔ سرکاری ترقیاتی امداد پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے، اس کو دوسری ترجیحات کی طرف موڑنا کوئی آپشن نہیں ہے جبکہ دنیا بڑے پیمانے پر بھوک کے دہانے پر ہے۔ بلاول نے کہا کہ حکومتوں کو زرعی پیداوار کو فروغ دینا چاہیے اور خوراک کے لچکدار نظام میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ کسانوں کے لیے ایندھن اور کھاد کی موجودہ بلند قیمتوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ حکومتوں کو سبسڈی کے ساتھ ان کی مدد کرنے کے قابل ہونا چاہیے اور انھیں منڈیوں سے منسلک کرنا چاہیے۔

پانچواں یہ کہ قحط کو روکنے اور بھوک کو کم کرنے کے لیے انسانی بنیادوں پر کارروائیوں کو مکمل طور پر فنڈز فراہم کیے جائیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ انسانی ہمدردی کی تنظیموں کے پاس قحط کو روکنے کا ایک ثابت شدہ ٹریک ریکارڈ ہے لیکن انہیں وسائل کی ضرورت ہے۔ اور ان وسائل کو انسانی بنیادوں پر خوراک کی خریداری کو ٹیکسوں اور دیگر پابندیوں سے استثنیٰ دے کر زیادہ سے زیادہ بھلائی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ خوراک، توانائی اور مالیات سے متعلق گلوبل کرائسز ریسپانس گروپ کمزور لوگوں پر بحران کے اثرات سے نمٹ رہا ہے، اس کی نشاندہی کر رہا ہے اور ان کے حل کی طرف زور دے رہا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ موسمیاتی ایمرجنسی عالمی بھوک کا ایک اور محرک ہے۔

گزشتہ دہائی کے دوران، 1.7 بلین لوگ انتہائی موسمی اور آب و ہوا سے متعلق آفات سے متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ- 19 وباکیوجہ سے اقتصادی بحران نے خوراک کے عدم تحفظ کو بڑھا دیا ہے، آمدنی میں کمی اور سپلائی چین میں خلل آیا ہے، وبائی مرض سے غیر مساویانہ بحالی کے رحجان نے پہلے ہی بہت سے ترقی پذیر ممالک کو ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے اور مالیاتی منڈیوں تک رسائی کو محدود کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس یوکرین تنازعہ اور اس کے فوڈ سکیورٹی پر اثرات کو اجاگر کیا اور کہا کہ گزشتہ ایک سال میں خوراک کی عالمی قیمتوں میں تقریباً ایک تہائی، کھاد کی نصف سے زیادہ اور تیل کی قیمتوں میں تقریباً دو تہائی اضافہ ہوا ہے۔

زیادہ تر ترقی پذیر ممالک کے پاس ان بھاری اضافے کے دھچکے کو کم کرنے کے لیے مالی گنجائش کی کمی ہے اور وہ مشکلات کا شکار ہیں۔ وزیر خارجہ بلاول نے مزید کہا کہ بھوک کی بلند شرح افراد، خاندانوں اور معاشروں پر تباہ کن اثرات مرتب کرتی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف سے چین کے ایکسٹرنل سکیورٹی کمشنر چنگ جوپنگ کی سربراہی میں وفد کی ملاقات

اسلام آباد (ایجنسیاں) وزیراعظم شہباز شریف سے چین کے ایکسٹرنل سکیورٹی کمشنر چنگ جوپنگ کی سربراہی میں وفد نے جمعرات کو یہاں ملاقات کی۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں چین کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے پاکستان اور چین کے مابین تذویراتی تعاون شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

A delegation led by Chinese External Security Commissioner Chung Joping called on Prime Minister Shahbaz Sharif

وزیراعظم نے پاک۔چین اقتصادی راہداری کے تحت جاری اور نئے منصوبوں پر کام تیز کرنے کے حوالہ سے اپنی حکومت کے عزم کو دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ پاک۔چین اقتصادی راہداری نے پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے اور اس کے ذریعے اعلیٰ معیار کی ترقی کو عملی شکل ملی ہے۔ وزیراعظم نے ایم ایل ون منصوبہ سمیت دونوں ممالک کی تذویراتی اہمیت کے منصوبوں پر نئے جوش و جذبہ سے کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات باہمی اعتماد، وقار اور تعاون پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین ہر چیلنج سے نمٹنے کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں اور انہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کراچی دہشت گرد حملہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پوری پاکستانی قوم اس دہشت گرد حملہ میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر چین کی حکومت اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ غم میں شریک ہے۔

انہوں نے کراچی دہشت گرد حملہ کی مکمل تحقیقات، اس ملوث عناصر کو جلد سے جلد گرفتار کرنے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کے پاکستانی عزم کا اعادہ کیا۔ 16 اپریل 2022ء کو چینی وزیراعظم لی کی کیانگ کے ساتھ اپنی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں مختلف منصوبوں اور اداروں میں کام کرنے والے تمام چینی شہریوں کی اعلیٰ سطح کی سکیورٹی اور تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔

چین کے ایکسٹرنل سکیورٹی کمشنر نے حکومت پاکستان کی طرف سے وزیراعظم کی براہ راست نگرانی اور رہنمائی میں حکومت پاکستان کی طرف سے دہشت گرد حملے کی مکمل تحقیقات کرنے اور چینی شہریوں کی حفاظت اور تحفظ کے اقدامات بڑھانے کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی پاکستان اور چین کی مشترکہ دشمن ہے اور دونوں اطراف اس لعنت سے چھٹکارے کا عزم کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے مابین ہر طرح کے حالات میں تذویراتی تعاون، شراکت داری، ایسے وقت میں جبکہ بین الاقوامی صورتحال نازک ہے، بین الریاستی تعاون کی بہترین مثال اور استحکام کا ستون ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف سے وکلا رہنماؤں کے وفد کی ملاقات

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ ، وفاقی وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ ، اٹارنی جنرل اشتر اوصاف بھی موجود تھے جبکہ وکلا رہنماؤں کے وفد میں صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن احسن بھون، سربراہ پاکستان بار کونسل حفیظ الرحمان ، صدر لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اکبر ڈوگر، سربراہ پنجاب بار کونسل جعفر طیار، سربراہ اسلام آباد بار کونسل قمر سبزواری ، سید قلب حسن امجد شاہ ، مسعود چشتی ، عابد ساقی اور دیگر شامل تھے۔ وزیر اعظم نے وکلا برادری کے سینئر منتخب رہنماؤں کے حکومت پر اعتماد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وکلا ملک کا عظیم اثاثہ ہیں۔

Immediate work should be started on amendments in the Lawyers Protection Act

حکومت وکلا کے پیشہ وارانہ امور کی انجام دہی میں ہر ممکن تعاون کرے گی۔ وزیر اعظم نے وزیر قانون کو ہدایت کی کہ وکلا پروٹیکشن ایکٹ اور بار کونسل ایکٹ میں ترامیم پر فوری کام شروع کیا جائے ۔ وکلا رہنماؤں نے وزیر اعظم شہباز شریف کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ وکلا برادری جمہوری اداروں کی مضبوطی کے لیے کردار ادا کرتی آئی ہے اور آئندہ بھی کرے گی ۔ وکلا رہنماؤں نے آئینی بحران کے حل میں عدلیہ کے کردار کی تعریف کی اور امید ظاہر کی کہ حکومت عوام کی توقعات کے مطابق معیشت کو سنبھالے گی۔

پاکستان یورپی یونین ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور وسعت دینے کا خواہش مند ہے،وزیراعظم شہباز شریف

اسلام آباد:وزیر اعظم شہباز شریف نے یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کی اہمیت پر زوردیتے ہوئےکہا ہے کہ پاکستان یورپی یونین رکن ممالک کے ساتھ اپنے موجودہ دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا اور وسعت دینے کا خواہش مند ہے،افغانستان میں انسانی و معاشی بحران سے نکلنے کے لئے فوری اقدامات،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اورکشمیریوں کی خواہشات کے مطابق تنازعہ کشمیر کے پرامن حل اور روس یوکرائن کے درمیان تنازعہ کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق حل کرنے ،عالمی قوانین اور کثیر الجہتی معاہدوں پر عمل درآمد کی اشد ضرورت ہے ۔

وزیر اعظم میڈیا آفس سے جاری بیان کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کویورپی یونین کونسل کے صدر چارلس مائیکل کے ساتھ ٹیلی فون پرگفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ وزیراعظم نے اپنی گفتگو کے دوران پاکستان کے یورپی یونین (ای یو) کے ممالک کے ساتھ تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان یورپی یونین رکن ممالک کے ساتھ اپنے موجودہ تعلقات کو مزید گہرا اور وسیع کرنے کا خواہش مند ہے۔وزیر اعظم نے یورپی یونین کونسل کی صدر ارسولا وان ڈر لی ین کے ساتھ قبل ازیں ہونے والی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان ای یو حالیہ دوطرفہ تبادلوں اور بڑھتے ہوئے تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔انہوں نے یورپی یونین کے ساتھ انتہائی نتیجہ خیز تجارتی اور اقتصادی تعاون کے لئے پاکستان کے دیرینہ موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ جی ایس پی پلس کی سہولت کی درخواست کے ذریعے شمولیت پاکستان کو اس قابل بناسکتی ہے کہ یورپی یونین کے ساتھ پاکستان کی تجارت میں اضافہ ہو۔

وزیر اعظم نے اپنے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پاکستان یورپی یونین تزویراتی بات چیت منصوبہ پاکستان اور پورپی یونین کے درمیان ایک اہم لائحہ عمل ہے اور اس سے دونوں کے تعلقات بالخصوص تجارت،ترقی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے شعبہ میں تعلقات کو مزید گہرا کرنے میں مدد ملے گی۔افغانستان کے حوالے سے انہوں نے ایک مستحکم اور پرامن افغانستان کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں انسانی اور معاشی بحران سے نکلنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر ضروری اقدامات اٹھائے جانے کی ضرورت ہے۔یوکرائن کے حوالے سے وزیر اعظم نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس تنازعہ کے ترقی پذیر ممالک پر اثرات پر روشنی ڈالی اور اس مسئلہ پر پاکستان کے اصولی موقف کااعادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ عالمی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور کثیر الجہتی معاہدوں کے مطابق مسئلہ کا سفارتی حل تلاش کیا جائے۔

بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ کشمیر میں سنجیدہ صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئےانہوں نے پاکستان کے خطے بھر میں امن کے فروغ کا عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی قرادادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق طویل حل طلب تنازعہ کشمیر کا پرامن حل ضروری ہے اوریہ جنوبی ایشاء کی سلامتی اور پائیدار امن کے لئے ناگزیر ہے۔وزیر اعظم نے یورپی یونین کونسل کے صدر کو دورہ پاکستان کی دعوت دی۔

نوجوان پاکستان کو ترقی کی منازل سے ہمکنار کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں، صدر مملکت

Youth should play their role for development of Pakistan, President addresses Youth Convention

اسلام آباد:صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستانی قوم اپنی تقدیر بدلنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے، قوم نے دہشت گردی کا سخت مقابلہ کیا، ملک کی بقا اور دہشت گردی کو روکنے کے لئے پاک فوج نے اہم کردار کیا ہے، پاکستان کی جوہری طاقت پر مسلم امہ کو فخر ہے، پاکستان پر جب بھی آزمائش آئی پوری قوم نے حکومت کا انتظار کئے بغیر اس کا بھرپور طریقے پر مقابلہ کیا، نوجوانوں کی محنت اور کوششوں کے نتیجہ میں پاکستان دنیا کا ترقی یافتہ اور مضبوط ملک بنے گا، قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے خوابوں کی تعبیر نوجوانوں سے وابستہ ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں جناح کنونشن سنٹر میں نیشنل یوتھ کنونشن 2022 سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کا اہتمام پاکستان انسی ٹیوٹ فار کنفلکٹ اسٹیڈیز نے کیا تھا۔

کنونشن میں پاک فضائیہ کے سابق سربراہ ایئر چیف مارشل سہیل امان، پاکستان انسی ٹیوٹ فار کنفلکٹ اسٹیڈیز کے ڈائریکٹر جنرل میجرجنرل (ر) سعد خٹک اور دیگر اہم شخصیات کے علاوہ پاکستان بھر سے یوتھ لیڈرز اور طلباءاور طالبات کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ صدر مملکت نے نوجوانوں پرزور دیا کہ وہ کردار سازی اور تعلیم پراپنی توجہ مرکوز کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اندر اعتماد پیدا کریں، سچ کی عادت ڈالیں اور بے ایمانی کے خلاف کھڑے رہیں۔

صدر نے کہاکہ پاکستان کی جوہری طاقت پر مسلم دنیا کو فخر ہے، 1974 میں بھارت کے جوہری تجربے کے بعد پاکستان نے اپنی محنت اور کوششوں سے صرف 7 سال کے کم عرصہ میں جوہری صلاحیت حاصل کرلی جس کے ذریعے پاکستان نے دشمن کو فاصلے پر رکھا ہوا ہے جو کوئی چھوٹی کامیابی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان قائد اعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے خوابوں کی تعبیر ہے جسے ترقی کی منازل سے ہمکنار کرانے کے لئے نوجوانوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر عارف علوی نے دنیا کے دہرے معیار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ 40 سال کے دوران 40 لاکھ افغان مہاجرین کو پناہ دی، مسلمانوں کی اقدار میں انسانوں سے ہمدردی کا جذبہ کارفرما ہے جبکہ مغربی ممالک مہاجرین کو اپنے علاقے میں داخل ہونے سے روکنے کے لئے بحیرہ روم میں ڈوبنے دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو جب بھی کبھی قدرتی آفت یا آزمائش کا سامنا کرنا پڑا، پوری قوم نے حکومت کا انتظار کئے بغیر اس کا از خود مقابلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ 2005 کے زلزلہ کے دوران قوم نے بے مثال کردار ادا کیا، پاکستان کی قوم اپنی تقدیر بدلنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے، قوم نے دہشت گردی کا سخت مقابلہ کیا، مادر وطن کے لئے پاک فوج کی قربانیوں پر فوج کو خراج تحسین کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک کی بقا اور دہشت گردی کو روکنے کے لئے فوج کا اہم کردار ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کو مطالبہ حق خود ارادیت اور بھارت میں مسلمانوں سمیت اقلیتوں کو مظالم کا سامنا ہے لیکن دنیا نے اس سے چشم پوشی اختیار کررکھی ہے۔ صدر مملکت نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شاعر مشرق علامہ اقبالؒ اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے جوریاست بنا کردی وہ آپ کے پاس امانت ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ اپنے اندر یکجہتی پیدا کریں، قوم کو ان سے امیدیں وابستہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئی ٹی، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں تیز رفتار ترقی ناگزیر ہے، انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ پاکستان ایک ترقی یافتہ ملک بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ اذہان کی ترقی کے نتیجے میں پاکستان دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہوجائے گا، اخلاقیات کی بنیاد پر ورلڈ آرڈر صرف پاکستان لائے گا، پاکستان کا یہ اعزاز ہے کہ اس نے ایک مختصر مدت میں جوہری صلاحیت حاصل کی۔ صدر مملکت نے کہا کہ انسان اچھے گفتار کو پہچانتا ہے، نوجوانوں کو بات چیت کرنے کے قابل ہونا چاہئے، آپ ایک پراعتماد قوم ہے، نوجوان ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں، قوم کو نوجوانوں سے امیدیں وابستہ ہیں۔ صدر مملکت نے پاکستان کی یکجہتی کیلئے انسٹی ٹیوٹ کی خدمات کو سراہتے ہوئے اس کے عہدیداران کو مبارکباد دی۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں اعتماد بے انتہا ضروری ہے، قوم کے اندر بھی اعتماد ہونا چاہئے۔کنونشن سے پاک فضائیہ کے سابق سربراہ ایئر چیف مارشل سہیل امان، پاکستان انسی ٹیوٹ فار کنفلکٹ اسٹیڈیز کے ڈائریکٹر جنرل میجرجنرل (ر) سعد خٹک اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے پاک فضائیہ کے سابق سربراہ ایئر چیف مارشل سہیل امان نے کہا کہ نوجوانوں میں ملک و قوم کے لئے کام کرنے کا جذبہ ہونا چاہئے، انہوں نے کہا کہ پاکستان ہماری پہچان ہے، محنت کے بغیر کچھ حاصل نہیں ہوسکتا، علم اور ہنر کامیابی کی کنجی ہے، نوجوان ملک اور دین کو آگے لے جانے کا عزم رکھیں، چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت ہی ہماری قیادت کی اساس ہے۔

پاک فضائیہ کے سابق سربراہ نے کنونشن کے اہتمام پر منتظمین کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ قبل ازیں پاکستان انسی ٹیوٹ فار کنفلکٹ اسٹیڈیز کے ڈائریکٹر جنرل میجرجنرل (ر) سعد خٹک نے اپنے خطاب میں کہا کہ انسی ٹیوٹ نے 2018 میں اپنے کام کا آغاز کیا، پاکستان کے تمام شہروں کی یونیوسٹیوں میں تقریبات کا انعقاد کیا، ان کاوشوں کا بنیادی مقصد نوجوانوں کوعلامہ اقبالؒ اور قائداعظم ؒ کے افکار سے آگاہ کرنا اور انہیں ملک کا کار آمد شہری بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانیت کے پیغام کو ملک کے کونے کونے تک پہنچانا ہے، انہوں نے شہریوں خاص طور پر نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ انفرادی سوچ سے نکل کر عظیم اجتماعی سوچ اپنائیں تاکہ وہ حب الوطنی اور ملک کے لئے کام کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کے نقشہ پر عظیم ملک کے طور پر ابھرے گا۔ نیشنل یوتھ کنونشن سے پاکستان انسی ٹیوٹ فار کنفلکٹ اسٹیڈیز کے منیجنگ ڈائریکٹر عبداللہ خان اور فریڈرک ایبرٹ فاو¿نڈیشن کے کنٹری ڈائریکٹر پاکستان نیلز ہیگیوِش نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔

ہمارے شہداء اور غازی ہمارے اصل ہیروز ہیں، ہم شہداء کے ورثاء کا خیال رکھیں گے ، جنرل قمر جاوید باجوہ

Our martyrs and conquerors are our real heroes, we will take care of the heirs of martyrs, General Qamar Javed Bajwa

راولپنڈی۔:چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ہمارے شہداء اور غازی ہمارے اصل ہیروز ہیں، جو قومیں اپنے ہیروز کو بھول جاتی ہیں وہ مٹ جایا کرتی ہیں، ہم شہداء کے ورثاء کا خیال رکھیں گے جن کی قُربانیوں کی وجہ سے آج پاکستان محفوظ ہے۔ بدھ کو یہاں جی ایچ کیو میں شہداء اور غازیوں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ آج ہم پھرماردرِ وطن پے قُربان ہونے والے اپنے بہادر جوانوں کی قُربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان جو آج محفوظ ہے، جہاں ہم رات کو آرام سے سوتے ہیں، یہ انہی آفیسرز، جے سی اوزاور جوانوں کے خون کی قُربانی کے ذریعے ممکن ہوا ہے۔

آرمی چیف نے کہا کہ میں ہمیشہ یہ کہتا ہوں کہ ہمارے اصل ہیروز ہمارے شہید ہیں، ہمارے غازی ہیں اور جو قومیں اپنے شہیدوں کو یا ہیروز کو بھول جاتی ہیں وہ مٹ جایا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک یہ دنیا قائم ہے شہید کا نام ہمیشہ چمکتا رہے گا۔اُس نے دُنیا میں بھی اپنا نام کمالیا اور آخرت میں بھی اپنا مقام بنا لیا، جیسا کہ فرمایا گیا ہے کہ شہید کے خون کا قطرہ گرنے سے پہلے ہی اُس کی بخشش ہو جاتی ہے، وہ نہ صرف اپنے آپ کو بخشوا لیتا ہے بلکہ اپنے ورثاء کیلئے بھی جنت کے راستے کھول دیتا ہے۔

آرمی چیف نے کہا کہ کوئی قوم، کوئی ملک اپنے شہداء کی قربانی کا صِلہ پیش نہیں کر سکتا، کوئی مادی قوت، دولت، پیسہ اُس کا نعم البدل نہیں ہو سکتا، ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم شہداء کے ورثاء کا خیال رکھیں اور انشاء اللہ ہم ان کا خیال رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ مانتا ہوں کہ کوئی بھی دیکھ بھال اور کوئی بھی مراعات شہادت کا نعم البدل نہیں ہو سکتیں۔ایک والد کیلئے، ایک والدہ کیلئے، جب تک وہ اس دُنیا میں زندہ ہیں اُن کا بچہ اُن کی نظر کے سامنے ضرور روز آئے گا، روز اُن کو یاد آئے گا۔

ایک بیوہ جس کا خاوند اس دنیا سے چلا گیا اور وہ بچے جن کے سر سے باپ کی شفقت اُٹھ گئی ہے، اُن کو بھی اُس کی کمی ضرور محسوس ہو گی اور اس کا کوئی بھی نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک آپ لوگوں کی قُربانیوں کی وجہ سے قائم ہے اور میں آپ کو سلام پیش کرتا ہوں کہ آپ لوگوں کی قُربانیوں کی وجہ سے آج پاکستان محفوظ ہے۔یہ فوج ہی ہے جو ہر وقت، ہر جگہ اور ہر طرح کی آزمائش کی گھڑی میں خواہ سیلاب ہو، طوفان ہو، زلزلہ ہو یا کوویڈ کی وبا ہو موجود ملے گی۔ کوئی بھی حادثہ ہو فوج امدادی کاموں کے لئے بتائے بغیر وہاں پر پہنچ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان دنوں بلوچستان میں کئی علاقوں میں ہیضہ کی وبا پھیلی ہوئی ہے، وہاں پانی کی کمی ہے اور فوج وہاں پہنچ کر اُن لوگوں کی خدمت کر رہی ہے، صاف پانی مہیا کر رہی ہے اور ہم اس خدمت پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

آرمی چیف نے کہا کہ میں اپنے شہداء کے ورثاء کو یقین دلاتا ہوں کہ انشاء اللہ آپ کو کبھی مایوس نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دُنیا مجھ سے پوچھتی ہے کہ یہ واحد فوج ہے جس نے دہشتگردی کا خاتمہ کیا ہے، اس کی کیا وجہ ہے اور پاکستان میں ایسی کیا خوبی ہے۔ میں ہمیشہ بتاتا ہوں کہ ہمارے پاس ایسی مائیں ہیں جو اپنے لختِ جگر، ہماری ایسی بہنیں ہیں جو اپنے شوہر اور ایسے بچے ہیں جو اپنے والد اس ملک پر قُربان کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں اور جب تک ایسی ہماری مائیں اورہماری بہنیں موجود ہیں تو مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں پر سختی سے عمل پیرا ہے ، وزیر خارجہ بلاول بھٹو

اسلام آباد ۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹریس سے ملاقات کی۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے بدھ کو جاری بیان کے مطابق وزیر خارجہ نے ملاقات کے دوران پاکستان کی خارجہ پالیسی میں کثیرالجہتی اور اقوام متحدہ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں پر سختی سے عمل پیرا ہے اور اس نے ہمیشہ ان اصولوں کے مطابق عالمی مسائل کے حل کی حمایت کی ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ گروپ 77 اور چائنہ کے موجودہ سربراہ کے طور پر، پاکستان اقوام متحدہ میں ترقی پذیر ممالک کی جانب سے اہداف کے حصول کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی حمایت کا خیرمقدم کرتا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر پہلے دو پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا جس کا مقصد غربت اور بھوک کا خاتمہ کرنا ہے۔ وزیر خارجہ نے یوکرین کی صورتحال پر مذاکراتی حل کو فروغ دینے کے لیے سیکرٹری جنرل کی کوششوں کو سراہا اور پاکستان کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔ وزیر خارجہ نے بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیرمیں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور غیر قانونی آبادیاتی تبدیلیوں کی سنگین صورتحال پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان بھارت سمیت اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن کا خواہاں ہے، جموں و کشمیر کے تنازعہ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کو نسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے تک امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ وزیر خارجہ نے اسلامو فوبیا سے نمٹنے کے لیے سیکرٹری جنرل کے عزم کو سراہتے ہوئے او آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کے موجودہ سربراہ کے طور پر پاکستان کی صلاحیت سمیت اس کوشش میں ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے افغان عوام کے لیے انسانی اور معاشی امداد کو متحرک کرنے میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے افغانستان میں عدم استحکام کے پاکستان میں پھیلائو پر پاکستان کی تشویش سے آگاہ کیا۔ وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی برادری کے ردعمل کو فوری انسانی ضروریات کو پورا کرنا چاہیے اور افغانستان میں معیشت کے مکمل خاتمے سے بچنا چاہیے جس کے عام افغانوں کے لیے سنگین نتائج ہوں گے۔